Showing posts with label Homeopathy in Urdu. Show all posts
Showing posts with label Homeopathy in Urdu. Show all posts

Friday, May 20, 2016

Select your homeopathic remedy carefully with open mind urdu


بعض دوائیں کسی ایک علامت کے لئے اتنی معروف ہیں کہ سوائے اس ایک دوا کے دوسری کوئی دوا ذہن میں آتی ہی نہیں۔ لہٰذا اکثر ساتھی، جو ریپرٹری دیکھنے یا میٹریامیڈیکا کا گہرا مطالعہ کرنے کا تکلف نہیں کرتے، وہی معروف دوا تجویز کر دیتے ہیں۔ آگے مریض کی قسمت۔ اگر انتخاب درست ہوا تو ستے خیراں ورنہ Suppression کو تو کوئی ڈر نہیں ؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
ذیل میں ہم چند دواؤں پر بات کرتے ہیں۔ ساری مثالیں SYNTHESIS انتخاب کی گئی ہیں۔

منہ خشک ہونا
اس علامت پر سیکنڈ ایئر کا طالب علم بھی پلسٹلا کو نہیں بھول سکتا۔ ریپرٹری کو کھولیں تو 325 دوائیں ایسی ہیں جن میں منہّ کی خشکی پائی جاتی ہے۔ اور ان میں 38 دوائیں گریڈ تین (یعنی اہم ترین) کی ہیں۔مثلاً ایکو نائٹ، آرسنکم، بیلاڈونا، برائی اونیا، کاربوویجی، چائنا، اگنیشیا، لائیکوپوڈیم، نیٹرم میور، فاسفورس، سیپیا وغیرہ۔ یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ تین گریڈ کی دواؤں میں پلسٹیلا کا ذکر نہیں۔ یہ دو گریڈ میں پائی جاتی ہے۔

منہ سے رالیں آنا
اس علامت پر سب سے پہلے زبان پر جو لفظ آتا ہے وہ مرکیورس کا ہے۔ ریپرٹری دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے 316 دوائیں اس خاصیت کی حامل ہیں اور ان میں مرکیورس بھی شامل ہے۔ مثلاً برائٹاکارب، فلورک ایسڈ، نیٹرم میور، نائٹرک ایسڈ، نکس وامیکا، سفلینم، لیکسس وغیرہ۔
مرکیورس کے بارے میں یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ اسم میں منہّ خشک ہونا بھی بدرجہ اُتم موجود 
ہے۔

حرکت سے زیادتی
یہاں کمزور ہومیوپیتھ بھی برائی اونیا کو ضرور یاد رکھے گا۔ ریپرٹری میں 309 دوائیں اس علامت کو کوالیفائی کرتی ہیں۔ مثلاً بیلاڈونا، برائی اونیا، چائنا، کالوسنتھ، مرکیورس، نکس وامیکا، سلیشا، سلفر وغیرہ۔

حرکت کے شروع میں زیادتی
اس علامت پر بھی رسٹاکس نے اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔ جبکہ کیپسیکم، کونیم، فیرم میٹ، لائیکوپوڈیم، پلسٹلا، اور یوفریزیا کا کہنا ہے کہ رسٹاکس ہی نہیں تنہا ۔۔۔۔ ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔

چکر آنا
اس علامت پر ممکن ہے کونیم کے علاوہ کہنہ مشق ہومیوپیتھس کے ذہنوں میں چند اَور دوائیں بھی آ جائیں لیکن کہاں تک؟ یہاں تو چکروں کی دواؤں کی لسٹ اتنی لمبی ہے کہ پڑھتے پڑھتے چکر آجائیں۔ 581 دوائیں درج ہیں۔ جن میں 34 ایسی بھی ہیں کہ کونیم کا ہر سطح پر مقابلہ کرتی نظر آتی ہیں۔
نمونے کی چند دوائیں ملاحظہ فرمائیں۔ ایپس، بیلاڈونا، بپٹیشیا، برائی اونیا،کلکیریا کارب، چیلی ڈونیم، ڈیجی ٹیلس، اوپیم، فاسفورس، سیکیل کار، ٹبیکم وغیرہ۔

حافظہ کی کمزوری
اس علامت پر وہی ہومیوپیتھ دوائیں یاد رکھے جس کا حافظہ کمپیوٹر جیسا ہو۔ ہمارے بس کی بات تو نہیں۔ اس علامت پر جب دواؤں کی بات ہوتی ہے تو ماہر استاد لوگ جن دواؤں کا کثرت سے ورد کرتے ہیں ان کے نام (ہماری معلومات کے مطابق) یہ ہیں۔ امبرا، اناکارڈیم، کالی فاس، نکس وامیکا، برائٹاکارب،لائیکوپوڈیم، فاسفورس، ایسڈ فاس، کلکیریا فاس، چائنا، جیلسیمیم، نیٹرم میور، سیلنیم، سلفر اور زنکم میٹ۔
اتنی دواؤں کے بعد انسانی حافظہ جواب دے جاتا ہے۔ جب کہ اس راہ میں ارجنٹم نائٹریکم، آرسنکم، بیلا ڈونا، کاسٹیکم، کولچیکم، ہیپر سلف، پلاٹینا، پلمبم جیسی دوائیں بھی ملیں گی۔

محبت میں ناکامی
ناکام محبت پر سب سے پہلے جن دواؤں پر دھیان جا تا ہے وہ اگنیشیا، اور نیٹرم میورہیں۔جبکہ اورم میٹ، لائیکوپودیم، ایسڈ فاس، پلسٹلا اور سٹیفی بھی برابر کی شریکِ غم ہیں اور اگر محبت کی ناکامی کے دائر ے کو ذرا وسیع کریں تو برائی اونیا، کیمومیلا، کالوسنتھ، جیلسیمیم، لیکسس، مرکیورس، نکس وامیکا، اور اوپیم بھی بزبانِ حال کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔ ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔

سر پر پسینہ
یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ اس علامت پر شاید ہی کسی کا دھیان اناکارڈیم، کیمومیلا، گائیکم، ایسڈ میور، پلسٹلا یا رہیوم کی طرف جاتاہو۔ اکثر ہومیوپیتھس دوستوں کا خیال کلکیریا کارب یا سلیشیا کی طرف جاتا ہے۔ اس حوالے سے ٹوٹل 32 دوائیں اچھی طرح کوالیفائی کرتی ہیں۔

کُھلی ہوا کی خواہش
اس علامت پر پلسٹیلا ، کاربوویج ، لائیکو، ٹیوبرکلونیم، وغیرہ سے آگے معلومات کا خزانہ خالی ہوتا نظر آتا ہے۔ ریپرٹری کے مطابق 57 دوائیں اس پر خوب فٹ آتی ہیں۔ مثلاً ارجنٹم نائیٹریکم، اورم سلف، کروکس سٹائیوا، کالی سلف، آرنیکا، سبائنا وغیرہ۔

پاؤں کے تلووں میں جلن
یہاں بھی (ریپرٹری کی مددکے بغیر) حافظہ پر زور دیتے ہوئے جن دواؤں کا ذکر ہوتا ہے ان میں سلفر، پلسٹلا، کلکیریا کارب،لائیکوپوڈیم، فاسفورس شامل ہیںجبکہ امبرا، اناکارڈیم، کاسٹیکم، کالوسنتھ، گریفائٹس، نیٹرم کارب، سلیشیا،زنکم میٹ بھی تلوے جلانے میں کسی سے کم نہیں۔

ڈکاروں سے آرام
یہاں بھی نظر انتخاب کاربوویج کے علاوہ کہیں نہیں جاتی۔ ممکن ہے بعض صاحبان، لائیکو پوڈیم، نکس وامیکا، انٹم ٹارٹ یا اگنیشیاتک رسائی رکھتے ہوں۔ لیکن گریفائٹس، کاربونیم سلف، کالی بائیکرومیکم، سینگونیریا، ایکونائٹ، برائٹا کارب، نائیٹرک ایسڈ، سیپیا وغیرہ بھی اس صف میں کھڑی ہیں۔

ٹانسلز کی سوجن
شاید ہی کوئی ہومیوپیتھ ہو جو برائٹا کارب، فائٹولاکا، ہیپر سلف یا سلشیا کے بارے میں نہ سوچتا ہو۔ لیکن شاید ہی کوئی ہومیوپیتھ ہو جو (ریپرٹری دیکھے بغیر ) کیمومیلا، نائٹرک ایسڈ، کلکیریا فاس، ڈلکامارا، جیلسیمیم یا سٹیفی کا دھیان کرتا ہو۔

نہانے سے نفرت
اس علامت پر بھی دیکھئے سلفر، سورائنم،کے علاوہ کیسی کیسی نادر روزگار دوائیں ملیں گی۔ مثلاً کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہی نفرت امونیم کارب، کلیمیٹس،سپائی جیلیا، کونیم، کینتھرس اور اٹھارہ دوسری دوائیں بھی رکھتی ہیں۔

مَتلی
جہاں متلی کا لفظ آیا فوراً اپیکاک کی طرف دھیان جاتا ہے۔ سوا پانچ سو دوائیں اس Rubric کا احاطہ کرتی ہیں۔ جیسے ارجنٹم نائیٹریکم، بیلاڈونا، ہیپرسلف، لونا، سیلشیا، زنکم وغیرہ۔
قارئین کرام!
مثالیں تو بہت ہیں لیکن جو پیغام میں آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں میں سمجھتا ہوں اس کے لئے اتنی مثالیں کافی ہیں۔ معروف ہومیوپیتھ الفون گیوکن کا کہنا ہے کہ ایک ہومیوپیتھ کو Flexible ہونا چاہے۔ کسی خاص مرض یا شکایت کے لئے کسی ایک دوا کو ذہن میں بٹھا لینا چنداں سودمند نہیں ہے۔ ایک ہومیوپیتھ کی عقابی نگاہ، مثبت سوچ اور کشادہ ذہن کا مالک ہونا چاہے۔ روٹین کی سوچ کامیاب پریکٹس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک تم ہی نہیں تنہا
ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ ۔ 0334-5533966

Sunday, May 1, 2016

انسان بیمار کیوں ہوتا ہے


امراض کے اَسباب یا یہ کہ انسان بیمار کیوں ہوتا ہے؟ اسباب تو بہت سے ہیں لیکن ہومیوپیتھک نقطہ نظر سے  سب سے بڑا سبب انسان کے جسم میں غلاظت و تعفن ہے جو  پہلے سے موجود ہو چکا ہےاور جس کا ذمہ دار وہ خود ہے ۔ اس غلاظت اور تعفن کو ہومیو پیتھک زبان میں سورا  PSORAکہا جاتا ہے ۔

سورا اِنسان میں اگر نہ ہوتا تو کوئی خارجی سبب اس کو ہرگز بیمار نہ کرتا   اور داخلی اسباب بھی اس پر ا ثر انداز نہ ہوتے لیکن اب صورت ِحال بالکل اس کے برعکس ہے۔ یہ چھوٹے بڑے خارجی اور داخلی اسباب اسے مریض بنا دیتے ہیں۔ خارجی اسباب کم اور داخلی یا خود پید ا کردہ اسباب زیادہ ہیں ۔ خارجی اسباب میں موسم‘ سردی گرمی وغیرہ‘ وبائی امراض‘ آب و ہوا اور حادثے سرِ فہرست ہیں ۔ باقی سب اَسباب انسان خود پیدا کرتا ہے جن میں سے بعض نسل در نسل منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور پھر یہ منتقل ہونے والے اسباب کئی امراض اَور علامات پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً  تپ دِق‘آتشک‘سوزاک ‘وغیرہ جن کا مرکب آخر کار سرطان کی شکل اختیار کر لیتا اور پھر وہ بھی نسل در نسل منتقل ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ امراض اگر اپنی اصلی صورت میں پیدا نہ بھی ہوں‘یعنی موروثی لحاظ سے‘پھر بھی ان کی جزوی علامات ظاہر ہوتی رہتی ہیں اور مزمن شکل اختیار کر لیتی ہیں۔مثلا ً ہاضمہ اکثر خراب رہتا ہے۔ اَسہال توکبھی قبض ‘نزلہ کھانسی کی شکایت اکثر ہو جاتی ہے۔عورت بانجھ ہے یا بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔ گنٹھیا ہوگیا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ہم آیندہ نشستوں میں اِن اَمراض کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کریں گےتاہم اگلی نشست کا موضوع ہومیوپیتھک فزیشن کا اِس ضمن کردار ہمارے زیرِ بحث ہوگا۔