Sunday, July 10, 2016

کیا ’میڈی ٹیک‘ آلات ڈاکٹر کا متبادل ہیں؟

سوچیں کہ آپ کا بچہ ایک بہت ہی نرم ملائم ٹیڈی بیئر سے کھیل رہا ہو اور پھر کچھ ہی دیر کے بعد بچے کی جسمانی حرارت آپ کے موبائل فون پر کسی جادو کی طرح ظاہر ہو جائے۔

یہ ایک عام ٹیڈی بیئر نہیں ہے بلکہ یہ تشخیص کے لیے یہ ایک ایسا آلہ ہے جس سے بچے پریشان نہیں ہوتے۔
جب آپ بیئر کے پنجے کو دباتے ہیں تو اس میں موجود سینسر جسم کا درجہ حرارت لینے کے بعد وائر لیس کے ذریعے سمارٹ فون پر بھیج دیتا ہے۔
اس طرح کے کھلونے نما تشخیصی آلات میں ایک طویل قامت زرافہ اور بہادر شیر بھی ہے جو جسم میں دل کی حرکت اور خون میں آکسیجن کی سطح کو چانچتا ہے۔
کروئشیا سے تعلق رکھنے والے سابق انفومیٹک کی طالبہ کو ایسے آلات بنانے کی سوجھی اور انھوں نے لندن، کیلفورنیا اور زاغرب میں ’ٹیڈی اینڈ دی گارڈین اینیمل‘ کے نام سے ایک کمپنی کھولی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جوسیپا میجک نے کہا کہ ’میں نے دیکھا کہ اچھے ڈاکٹرز بھی بچوں کا معائنہ کرتے ہوئے ماں باپ کے جذباتی لگاؤ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔‘

Image copyrightDORIJAN KLJUN

وہ کہتی ہیں کہ مجھے میڈیکل ٹیکنالوجی یا ’میڈی ٹیک‘ بہت ہی منافع بخش کام لگا۔ ’سینسر کی اور دیگر پرزوں کی لاگت کم ہو رہی ہے اور اس میدان میں جدت آ رہی ہے۔‘
اس کام میں وہ اکیلی نہیں ہیں وہ اُن بہت سے تاجروں میں سے ایک ہیں جن کی حوصلہ افزائی یورپی یونین نے کی ہے۔
سینسرز کی قیمت میں کمی اور وائر لیس کیمونیکشن میں اضافے نے اس طرح کے نئے کاروبار کی پنپنے اور ان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کو بڑھایا ہے۔
ہیلتھ انسائٹ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سال 2015 میں میڈی ٹیک سٹارٹ اپ میں چھ ارب یورو کی سرمایہ کاری ہوئی ہو جبکہ سنہ 2010 میں اس میں سرمایہ کاری کی شرح ایک ارب یورو تھی۔
ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ کریس پینل کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں صحتِ عامہ کے شعبے میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں۔
’صارفین کے استعمال میں آنے والی ٹیکنالوجیز، جیسے سمارٹ فونز، پہننے والے آلات اور موبائل ہیلتھ ایپس کے ذریعے افراد اپنے صحت کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔

لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مختلف ممالک میں بچوں کے لیے کھلونا نما تشخیصی آلات کے لیے سکیورٹی ریگولیشن مختلف ہیں۔

باڈی سوٹ

اسی طرح ایک کمپنی ہے جو باڈی تھرمل سوٹ بناتی ہے جس کو پہن کر بچوں کی جسمانی حرارت کا پتہ لگایا جا سکتا۔ یہ کمپنی 10 ہزار یورو کی سرمایہ کاری سے شروع ہوئی تھی۔
باڈی سوٹ پہننے والے بچے کا جسمانی درجہ حرارت اُس کے والدین یا پھر ڈاکٹر کے فون پر آ جاتا ہے اور جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک تجاوز کر جانے پر آلارم بجتا ہے۔
تھرمل باڈی کو ایسا بنایا گیا ہے کہ اسے پہننے کے فوری بعد اس کا سنسر ان ہو جاتا ہے اور پھر خود بخود بند ہو جاتا ہے۔
کمپنی کے مالک کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے تشخیصی سوٹ کی فروخت کے لیے یورپی یونین سے سرٹیفکیٹ ملنے کا انتظار ہے۔

بہت میٹھا نہیں

ایڈورڈو ہورجنسن نے ایک دس سالہ بچی کو ذیابیطس کا شکار ہوتے دیکھ کر میڈی ٹیک آلہ بنایا۔
انھوں نے بتایا کہ وہ بچی انسولین کا پمپ استعمال نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ سکول میں ہر کوئی اُس کا مذاق اڑاتا تھا۔
اس لیے اُنھوں نے ایسی مفت ایپلکیشن بنائی جو والدین کو خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس ایپ کو بغیر سرجری کیے ایک ایسے پیچ سے منسلک کیا جاتا ہے جس سے انسانی لبلبے کے کام کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایپ الگورتھم کے ذریعے انسان کے خون میں شوگر اور انسولین کی سطح کو مانیٹر کرتا ہے اور ایسے عناصر جن سے شوگر کم ہوتی ہے جیسے ورزش اور خوراک کے بارے میں مشورے بھی دیتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ کو فون پر ایک پیغام ملتا ہے جس میں آپ کو کاربوہائیڈریٹس کم کرنے، ورزش کرنے اور انسولین کی مقدار بڑھانے کے بارے میں تجویز دی جاتی ہے۔
اس موبائل ایپلکیشن کی باقاعدہ لانچنگ اکتوبر سنہ 2016 سے پہلے نہیں ہو سکتی ہے۔ اس ایپ کے موجد ایڈورڈو ہورجنسن ایک ڈاکٹر اور اینڈوکرنالوجی میں سپیشلائیزیشن کر رہے ہیں۔


دماغی اختراع

گو کہ تمام تھراپیز میں ادویات استعمال نہیں ہوتی ہیں۔ اس لیے ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی کم بیڈن نے دماغی تربیت کے لیے ایک ایپ بنایا ہے جس سے لوگوں میں ڈیپریشن اور دماغی امراض میں کمی کرنے میں مدد ملے گی۔
اس منصوبے کو کوپن ہیگن یونیورسٹی نے بھی فنڈ کیا ہے جس کا مقصد مختلف گیمز اور ورزش کے ذریعے لوگوں میں یادداشت کو بڑھانا اور مسائل حل کرنا ہے۔
اس ایپ کے شریک بانی کا کہنا ہے کہ دنیا میں 12 لاکھ افراد اس ایپ کو استعمال کر رہے جن میں ہسپتال اور بحالی کے مراکز بھی شامل ہیں۔
کمپنی کا ماننا ہے کہ انسانی دماغ کو بھی جسم کی طرح ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔


صحت مند سرمایہ کاری

لیکن ٹیکنالوجی سے لیس خود کار تشخیصی آلات کے استعمال سے کچھ خطرات بھی ہیں۔
تجزیہ کار مسٹر پینل کا کہنا ہے کہ ’انٹرنیٹ پر سر درد اور کمر کے درد کا علاج جاننا ڈاکٹر کے پاس بیٹھ کر انتظار کرنے سے زیادہ آسان ہے۔‘
بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جو ایک نمک کی چٹکی سے نتیجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنا علاج خود شروع کر دیتے ہیں۔ بعض افراد علامات ظاہر ہونے کے بعد سمجھتے ہیں کہ یہ زیادہ پریشان کن نہیں ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
فٹنس جانچنے کے لیے پہننے والے آلات جیسے ’فٹ بٹ‘، ’جابون‘ اور ’گارمین‘ سمیت دوسرے آلات کی مانگ بہت زیادہ ہے۔
فی الوقت ان آلات کو متعارف کروانے کے لیے میڈیکل ریگولیٹر کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ صرف ڈیٹا ہی اکٹھا کرتے ہیں۔
لیکن ایسے تشخیصی آلات اور صحت کے ایپس اور طبی مشورے دینے والے آلات کے مارکیٹ میں آنے سے کچھ مسائل ضرور پیدا ہوں گے۔
اب میڈی ٹیک آلات میں وسعت سے ریگولیٹری باڈیز کے لیے ایک نیا چیلنج سامنے آیا ہے۔
ایک طرف تو کم علمی بھی خطرناک ہو سکتی ہے جبکہ دوسری جانب میڈی ٹیک کے میدان میں وسعت سے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکتا اور پہلے سے بوجھ تلے دبے صحتِ عامہ کے نظام پر دباؤ کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔






Courtesy: BBC


No comments: