Friday, March 30, 2018

ہومیوپیتھک علاج ناکام کیوں؛ غلطی کہاں ہوتی ہے؟ – حسین قیصرانی

آج سارا معاشرہ ایلوپیتھک طریقہ علاج سے ہی متاثر ہے جس میں بالعموم کیس ٹیکنگ گہرائی میں نہیں ہوا کرتی۔ مریض اپنے چند مسائل بیان کرتا ہے اور دوائیاں دے دی جاتی ہیں۔
ہومیوپیتھی علاج کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس میں صرف مرض یا تکلیفوں کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ مریض کا علاج ہوتا ہے۔ اِس میں کیس ٹیکنگ، مریض کے ہر پہلو کو مدِ نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ مریض کو کوئی ایک دوا دی جاتی ہے جو اُس کی موجودہ کنڈیشن یا سطح کی دوا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کو معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف کا اصل سبب کیا ہے لیکن اس کی اوپر کی سطح یا بظاہر کوئی اَور تکلیف ہو سکتی ہے۔ جب تک اوپر کی تہہ کو صاف نہیں کریں گے کوئی ہومیوپیتھک دوائی کماحقہٗ کام نہیں کرے گی یا کم از کم مریض کی نظر میں دوا یا علاج کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ کوئی مریض اپنی اصل صورتِ حال (دل و دماغ اور جسم کی) ایسے یا یونہی چلتے پھرتے نہیں بتاتا۔ اُس کے لئے مخصوص مہارت اور ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر اپنے قریبی رشتہ دار ڈاکٹر یا فرد کو صرف سطحی کیس دیا جاتا ہے اور اصل تکلیفوں کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔ علاوہ ازیں مریض کا کیس باقاعدہ لکھا جانا تو خیر ہے ہی اولیں شرط۔
ڈاکٹر جیمز کینٹ کا کام اور نام ہومیوپیتھی لٹریچر میں بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ کے ہومیوپیتھک فلاسفی پر لیکچرز دنیا بھر میں ہومیوپیتھک کورس کا حصہ ہیں۔ ان کی اس موضوع پر شہرہ آفاق کتاب کا آخری سے پہلے والا لیکچر (Lecture 36: The Second Prescription) “دوسرا نسخہ” پر ہی ہے۔ فرماتے ہیں کہ دوسرا نسخہ لکھنے سے پہلے کیس کا از سر نَو مطالعہ کرنا ضروری ہے اور یہ نوٹ کرنا بھی بے حد اہم ہے کہ کیا کیا تبدیلیاں رُونما ہوئیں۔ بعد میں چاہے وہی دوا دہرائی جائے، اُس کا توڑ کیا جائے یا کوئی معاون دوا دینے کی ضرورت پڑے۔
(The second prescription may be a repetition of the first, or it may be an antidote or a complement ; but none of these things can be considered unless the record has been again fully studied, unless the first examination, and all the things that have since arisen, have been carefully restudied that they may be brought again to the mind of the physician.)۔
اگر باقاعدہ کیس لیا ہی نہیں گیا، اُس کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے اور نئی دوا دینے سے پہلے پچھلا ریکارڈ توجہ سے دیکھا نہیں گیا تو جو بھی دوا دی جائے گی وہ ہومیوپیتھک دوا تو ہو سکتی ہے لیکن یہ ہومیوپیتھک علاج نہیں کہلائے گا۔ یہ جو بھی علاج ہے؛ اِس سے صحت یابی کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔
مجھے روزانہ کئی فون یا پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ فلاں فلاں مسئلہ کی دوا بتا دیں۔ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اِس طرح کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا لیکن اکثر اِس بات کو سمجھتے ہی نہیں۔ بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ میں اُنہیں علاج بتا دوں۔ ہمارے ہاں لوگ اتنے کنفیوز ہیں کہ اُن کو اتنا بھی علم نہیں کہ علاج بتایا نہیں جا سکتا؛ علاج کیا یا کروایا جاتا ہے۔
اِس سے یہ بھی واضح ہو جانا چاہئے کہ جو ڈاکٹر (چاہے وہ کتنا ہی مشہور یا قابل کیوں نہ ہو) مریض کا کیس نہیں لیتا، ریکارڈ نہیں رکھتا اور نیا نسخہ لکھتے یا دوا دیتے وقت پچھلا ریکارڈ ملاحظہ نہیں کرتا وہ ہومیوپیتھک علاج کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔
بہت دفعہ تو فالواَپ نشستوں یا انٹرویوز میں ہی کیس سمجھ آتا ہے۔ کئی بار دوسرے یا تیسرے انٹرویو میں اِدھر اُدھر کی بات چیت کے دوران معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ اَور ہی تھا۔ ہومیوپیتھی میں کسی مسئلے کی وجہ سمجھ آ جائے تو کیس واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ اِس ضمن میں میرے آرٹیکل “ہومیوپیتھک طریقہ علاج اور تشخیص میں سبب کی اہمیت” مطالعہ مفید رہے گا۔
(حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ اینڈ ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور، پاکستان فون نمبر 03002000210)۔

Related Posts



ہومیوپیتھک علاج ناکام کیوں؛ غلطی کہاں ہوتی ہے؟ – حسین قیصرانی

No comments: