Saturday, November 2, 2019

روزہ دار کی صحت کے مسائل اور ہومیوپیتھی (1) – پیٹ میں گیس کا بننا – حسین قیصرانی







روزہ دار کی صحت کے مسائل اور ہومیوپیتھی (1) – پیٹ میں گیس کا بننا – حسین قیصرانی




رمضان کریم میں کھانے پینے، سونے جاگنے اور زندگی کے اکثر معاملات میں واضح تبدیلی ہو جاتی ہے جس سے بعض روزہ دار خواتین و حضرات کو صحت کے وقتی مسائل عبادات کی بجا آوری میں دقت کا باعث بن سکتے ہیں۔ گزشتہ دس دنوں میں جن تکالیف کے مریض زیادہ تعداد میں آئے ہیں، اُن کی مختصر ترین علامات اور ہومیوپیتھک دوائیں پیشِ خدمت کی جائیں گی۔ یہ دوائیں ان مسائل کے علاوہ بھی بے شمار تکالیف میں استعمال ہوتی ہیں۔
یہ وضاحت بہت ضروری ہے کہ اگر مسائل پرانے ہوں تو ڈاکٹر کے مشورہ سے ہی کوئی دوائی استعمال کی جائے۔ کوئی بھی ہومیوپیتھک دوا متواتر لمبا عرصہ استعمال کی جائے تو وہ بیماری میں فائدہ کے بجائے اضافہ کا باعث بن سکتی ہے۔ دوائی کے دس قطرے افطاری کے بعد اور سحری سے پہلے ایک چوتھائی گلاس سادہ پانی میں ڈال کر پی سکتے ہیں۔ کوشش کریں کہ دوائی لینے سے تیس منٹ پہلے اور بعد کچھ نہ کھائیں۔ سحری کے وقت اگر مجبوری ہو تو دوائی کے چند منٹ بعد کھا پی لیں۔ شکریہ! (حسین قیصرانی)۔
پیٹ میں گیس کا بہت زیادہ بننا
گیس اگر پورے پیٹ میں بننے کا رجحان ہو تو اُس کی دوا چائنا (CHINA Officinalis 30) ہو گی۔ یہ دوا جگر کی خرابی یا جگر بڑھ جانے کی وجہ سے ہونے والی تکالیف میں بھی فائدہ دیتی ہے۔
گیس کا زور اگر پیٹ کے آدھے یعنی ناف کے اوپر والے حصہ میں ہو تو ہومیوپیتھک دوا کاربوویج (Carbo Vegetabilis 30) مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ دوا سانس کی تنگی اور گرمیوں کے موسم میں بڑھ جانے والے دمہ (Asthma) کے علاج میں بھی اچھے نتائج پیدا کرتی ہے۔
اگر گیس کا بننا اور جمع ہونا ناف کے نیچے والے حصہ میں ہو یا پیٹ کے دائیں طرف ہو تو اُس کا علاج لائیکوپوڈیم (Lycopodium Clavatum 30) سے کیا جا سکتا ہے۔ اس دوا کے دائرہ کار میں جسم کا تقریباً ہر عضو آتا ہے تاہم گردوں کی خرابی سے ہونے والی تکلیفوں میں بھی بے حد مفید ہے۔

Related Posts

روزہ دار کی صحت کے مسائل اور ہومیوپیتھی (1) – پیٹ میں گیس کا بننا – حسین قیصرانی

No comments: