Sunday, November 3, 2019

ناپاکی، ٹچ کرنے، بار بار کپڑے بدلنے اور ہاتھ دھونے کا وہم، فوبیا، ڈر اور خوف – کامیاب علاج اور ہومیوپیتھک دوائیں – حسین قیصرانی

ناپاکی، ٹچ کرنے، بار بار کپڑے بدلنے اور ہاتھ دھونے کا وہم، عجیب ڈر اور خوف – علاج اور ہومیوپیتھک دوائیں – حسین قیصرانی



ایک ماہ قبل کی بات ہے کہ ایک محترمہ نے سیالکوٹ سے فون کیا۔ وہ رو رہی تھیں۔ یاس و نا اُمیدی، غم اور پریشانی اُن کے ایک ایک لفظ سے جھلک رہی تھی۔ کہنے لگیں کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ عجیب و غریب بلکہ بہت ہی بے ہودہ باتیں کرتا ہے جن میں سے اکثر کسی کو بتائی بھی نہیں جا سکتی ہیں۔ یوں تو اُس کی صحت بچپن سے ہی ڈسٹرب رہی ہے– کبھی جگر معدہ خراب تو کبھی لمبا اور لگاتار نزلہ زکام کھانسی بخار۔ خاندان میں سانس کی تکلیفیں، ٹی بی اور نفسیاتی جذباتی مسائل کی ہسٹری بھی ہے تاہم گزشتہ ایک سال سے معاملات ہماری برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔ ہر بڑے اور مشہور ڈاکٹر سے علاج کروایا ہے مگر بہتری نہیں ہو رہی بلکہ مسائل انتہائی خراب ہونے لگ گئے ہیں۔ ڈاکٹرز کی ہدایت یہ بھی تھی کہ بچے سے اُس کی فضول باتیں نہ سنی جائیں اور بس دوائی جاری رکھی جائے۔
تیرہ سالہ بیٹا ہر بات پر یہ کہتا کہ پلیز میری بات سُن لیں ورنہ مجھے کچھ ہو جائے گا۔ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔ گھر میں سارا وقت اُس کی یہی التجا جاری رہتی۔ وہ کوئی کارٹون دیکھتا یا میچ تو اُس کو یہی لگتا کہ جیسے انہوں نے پورے کپڑے نہیں پہن رکھے۔ وہ بہت ہی شریف اور سلجھا ہوا بچہ ہے مگر اُس کے دل و دماغ پر یہ وہم چھا گیا ہے کہ ہر چیز فحش ہے اور کسی کو معمولی سا ٹچ کرنا یا کسی سے معمولی سا ٹچ ہو جانا عملاً فحاشی ہے۔ آتے جاتے اگر اُس کا ہاتھ پاؤں حتیٰ کہ کپڑے بھی کسی سے لگ جائیں تو اُس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ “میں نے خود ایسا نہیں کیا”۔ پھر گھبرا کر پوچھتا بلکہ تسلی کرتا ہے کہ “کچھ ہو گا تو نہیں”؟
وہ کسی صورت گھر میں نہیں رہنا چاہتا۔ حالانکہ بہت کمزور اور پتلا ہے مگر دن رات کرکٹ کھیلتا رہے تو مطمئن رہتا ہے۔ دن ہو یا رات وہ گھر سے باہر نکلنے جانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ نکال لے گا۔ گھر میں ہو تو خالی خالی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ آج تک کوئی اس کا دوست نہیں بن سکا۔ اللہ ناراض نہ ہو جائے؛ روز رات کو معافی مانگتا ہے۔ بے حد پسینہ آتا ہے مگر منہ ہاتھ دھونے یا نہانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ ایک طرف یہ حال ہے تو دوسری طرف ہر آدھے گھنٹے بعد کپڑے تبدیل کرے گا کہ ناپاک ہو گئے ہیں۔ بار بار ہاتھ دھوئے گا کہ آتے جاتے کسی کو لگ گیا تھا۔ میٹھی چیزیں بہت زیادہ پسند ہیں۔ ٹھنڈے چاکلیٹی ذائقے کے جوس پینے کی شدید خواہش ہے۔ کبھی سٹور پر ساتھ لے جانے کی غلطی ہو جائے تو اِس کی ضد ہو گی کہ بہت ساری چیزیں لی جائیں۔ چیزیں لیتا جائے گا اور اس کا جی پھر بھی نہیں بھرے گا۔ گھر پہنچنے تک کسی چیز میں دلچسپی برقرار نہیں رہ پائے گی۔ کسی چیز کی دن رات ضد کرے گا اور جب وہ مل جائے گی تو ایک آدھ دن بعد اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ ابھی پچھلے ہفتے ایک مشہور برانڈ کے جوتوں کی ضد تھی جو اِس کے پاپا نے پوری کر دی۔ بلامبالغہ ڈاکٹر صاحب! اس نے صرف ایک دن پہنے اور پھر کوئی دلچسپی نہیں۔ اگر کہا جائے کہ اتنے مہنگے جوتے لے تو لئے ہیں اب پہنو بھی ۔۔۔۔۔ تو اس کا جواب ہو گا کہ ہیوی موٹر بائیک تو لے کر نہیں دیتے پھر ان جوتوں کا کیا فائدہ۔ پچھلے چند دن سے صبح شام یہ ضد کہ ہیوی بائیک لے کر دیں۔ گھر میں کوئی نئی چیز آئے تو اُس کو کھولنے اور پرزے پرزے کرنے کی ضد ہو گی۔
جب تک اس کا ذہن دماغ کہیں مکمل پھنسا ہوا نہ ہو، یہ آرام سے نہیں بیٹھ سکتا۔ کہتا ہے کہ کرکٹ بھی اس لئے کھیلتے رہنا چاہتا ہوں کہ اُس دوران عجیب سوچیں نہیں آتی ہیں اور دل نہیں گھبراتا۔
رات کو سونے نہیں جاتا کیوں کہ نیند نہیں آتی اور سوچیں گھیر لیتی ہیں۔ بار بار کہہ کر سونے پر مجبور کرتے ہیں تو ہی ناچار بستر پر جاتا ہے۔ نیند ہلکی اور کچی ہے۔ رات کو دانت پیستا ہے۔ پڑھنے سے اس کو خدا واسطے کا بیر ہے اگرچہ انعام لینے اور ٹاپ کرنے کی خواہش بھی شدید ہے۔ کرکٹ میں بھی اچھا کھیل پیش نہیں کر پاتا تو آخر میں ڈسٹرب ہی ہوتا ہے۔ گھر واپسی پر اس کے پاس غم، پریشانی اور وہموں کا انبار ہوتا ہے جس کے لئے مجھے گھنٹہ دو اِس کو دینا ہوتا ہے۔ بے حیائی اور بے شرمی کی فرضی اور خیالی باتیں اس نے اپنی ماں کے ساتھ ہی شئیر کرنی ہوتی ہیں۔
میں اپنے آفس میں سٹاف کو ٹرنینگ بھی دیتی ہوں۔ آفس کے اندر اور باہر کے معاملات کو اچھے طریقے سے ہینڈل کر لیتی ہوں لیکن اس لڑکے پر میری کوئی کوشش ذرہ برابر فرق نہیں ڈال پاتی۔ ہر دوسرا دن تقریباً وہی باتیں سننی ہوتی ہیں۔ اِس کو ایسے نظر آتا ہے کہ کرکٹ کے میدان میں بھی ہر لڑکا گھٹیا باتیں کرتا ہے بلکہ حرکتیں بھی۔ سکول میں بھی اس کے خیال میں بس ایسی ہی فضول باتیں اور کام ہوتے ہیں۔ ہم نے اس کے سکول بھی تبدیل کروائے مگر یہ اور اس کی سوچ تبدیل نہیں ہو سکی۔ ٹھہراؤ، اطمینان، سکون ٹائپ کسی معاملے سے اسے کوئی واقفیت ہی نہیں ہے۔ تبدیلی بلکہ مسلسل تبدیلی ہی اسے راس آتی ہے۔ ہاں! آپ ٹھیک کہتے ہیں بلی دیکھنے یا قریب آنے سے کچھ عجیب سا ہوتا ہے جیسے جھرجھری سی آتی ہے۔
چڑچڑاپن ہر وقت عروج پر رہتا ہے اور غصہ جیسے ناک پر دھرا ہو۔ پوز ایسے کرتا ہے کہ جیسے چھوڑے گا نہیں لیکن اندر سے دل کا نرم یا شائد بزدل ہے۔ بہت ہی حساس واقع ہوا ہے۔ رونے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتا بلکہ ہوں کہنا چاہئے کہ موقع بے موقع روتا رہتا ہے۔ عجیب قسم کے احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ کامیابی کے لئے محنت اور کوشش کرنے کو تیار نہیں ہے لیکن خواہشیں بڑی بڑی پالی ہوئی ہیں۔ بھوک اگرچہ کم ہے لیکن چکن اور انڈہ دن میں دس بار بھی شاید کھا لے۔ آئس کریم شوق سے کھاتا ہے اور سلانٹی بھی مگر کرکرے اس کی پسندیدہ غذا ہے۔
سالہا سال ہر طرح کی دوائیاں کھائی ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے سائکائٹری (Psychiatry) کی دوائیاں جاری رہیں۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے علاج بھی کچھ عرصہ جاری رہا مگر کسی دوائی اور ڈاکٹر نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا۔
مسائل کی پہلی لسٹ
touch sensitivity – OCD
2. ناپاکی کا مستقل احساس۔ یہ وہم بہت تنگ کرتا ہے کہ یورین لیک کر گیا ہے یا کچھ اور۔
3. جسمانی طور پر بہت ہی کمزور
4. بھوک کی کمی
5. ہر وقت رونا
6. چڑچڑاپن
7 ۔ خالی خالی آنکھوں سے دیکھنا
8. صرف اپنی پسند کا کھانا کھانے کی ضد کرنا
9. کھانے میں صرف چکن کی ضد کرنا
10. ۔ اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر محسوس کرنا
11. پڑھنے کو دل نہ کرنا
12. کرکٹ کھیلنے کا جنون
13. نہانا نہیں پسند
14. ۔ باربار کپڑے بدلنا۔ دن میں دس بار تک۔
15. اپنا کوئی کام خود نہ کرنا
16. کوئی بھی مستقل دوست نہیں ہے
17. نیند بہت کم، کچی اور بے سکون
18. پیاس بہت کم
19. گھر میں رہنا نہیں پسند
20. پرانی باتیں بار بار یاد آنا
21. سبق یاد نہ ہونا
مسائل کی پہلی لسٹ کا تجزیہ – علاج کے دو ہفتے بعد:
1. ناپاکی کا احساس — اس میں کمی آئی ہے ختم نہیں ہوا تقریباً 50%
2. ٹچ – اس میں 40% تک کمی ہے
3. جسمانی طور پر کمزور – اس میں کوئی بہتری نہیں
4. ۔ بھوک کی کمی — اس میں کوئی بہتری نہیں
5. ۔ ہر وقت رونا — یہ تقریباً 80% ٹھیک ہو چکا ہے
6. چڑچڑاپن — یہ 80% ٹھیک ہے
7۔ خالی خالی آنکھوں سے دیکھنا – یہ مسئلہ تقریباً ختم ہو گیا ہے ۔
8۔ ہر وقت اپنے پسند کے کھانے کی ضد کرنا — اب اس نے ضد نہیں کی لیکن پسند کے کھانے کی عدم موجودگی میں بھوکا رہ لیتا ہے ۔
9. ۔ دوسروں سے کم تر محسوس کرنا — اس میں بہتری نہیں آئی
10. کرکٹ کھیلنے اور گھر سے باہر رہنے کا جنون — اس میں 70% بہتری آ گئی ہے۔
11 ۔ نہانا نہیں پسند۔۔ اس میں 50% بہتری آئی ہے۔
12 ۔ ناپاکی کا وہم – بار بار کپڑے بدلنا — اس میں 50% بہتری آئی ہے۔
13. اپنا کوئی کام خود نہ کرنا — اس میں بہتری نہیں آئی
14. نیند کی کمی — یہ 99% ٹھیک ہے
15. ۔ کوئی دوست نہیں ہے — اس میں بہتری نہیں آئی
16. پانی کی پیاس بہت کم ہے — یہ 50% بہتر ہے۔
17. گھر میں رہنا نہیں پسند — 50% بہتر ہے
دوسری لسٹ – جو مسائل اب بہت تنگ کر رہے ہیں۔ علاج کے دو ہفتے بعد
1. فضول باتیں – غلط باتیں بے شرمی، بے حیائی کی اور سیکس (Sex) سے متعلقہ۔ اصل میں پریشانی ہوتی ہے اس لئے کلئر کرنا چاہتا ہے کہ کچھ ہو گا تو نہیں۔ ذہن میں الجھاؤ اور کنفیوژن ہے۔
2. والدین کو قتل کرنے کی شدید خواہش لیکن ساتھ ہی یہ پریشانی اور فکر کہ پھر باتیں کس سے کروں گا۔ مستقل ذہنی کشمکش۔ یا بہت ظالمانہ سوچیں یا ڈر، وہم خوف اور پریشانیاں۔
3. ذاتی صفائی سے بیزاری۔ نہانے سے ہر ممکن بچتا ہے چاہے ہفتوں گزر جائیں۔
4. دانت صاف کرنے سے پرہیز۔ اس کے بس میں ہو تو منہ بھی نہ دھوئے۔ ہاتھ البتہ بار بار دھوتا ہے گندگی اور ناپاکی کا احساس ہونے یا ٹچ ہونے کی وجہ سے۔
5. بھر پور احساسِ گناہ ۔۔ جب کچھ غلط سوچتا یا کہتا ہے تو پریشان ہوتا ہے کہ اب مجھے گناہ اور عذاب ملے گا۔
6. سزا کا خوف – اللہ تعالیٰ سزا یا عذاب دیں گے۔ فضول باتوں اور بے شرمی کے خیالات پر قبر کے عذاب اور جہنم کا خوف۔ موت کا خوف بلکہ یہ خوف کہ مرنے کے بعد عذاب ملے گا۔
7. انجیکشن وغیرہ سے بالکل نہیں گھبراتا۔۔۔۔ جیسے اس کو درد کا احساس عام بچوں سے کم ہوتا ہے۔
8. بھوک بہت کم ہے۔ بہت کمزور ہو چکا ہے۔
9. ۔ ٹچ کا مسئلہ (touch sensitivity)۔ کسی کو ہاتھ پاؤں یا جسم کا کوئی حصہ ٹچ کر جائے تو بہت پریشان ہو جاتا ہے۔ کہتا ہے کہ دل گھبراتا ہے۔ ماں باپ کو بھی ٹچ نہیں کرنے دیتا۔
10. سامنے پڑی ہوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔۔۔۔ اکثر کسی نہ کسی سے ٹکرا جاتا ہے۔۔۔۔ ہاتھ سے چیز گرا دیتا ہے۔
11۔ اپنا کوئی کام خود نہیں کرتا ۔
12. ماں کے علاوہ کسی سے کوئی بات شیئر نہیں کرتا۔ ماں سے ہر فضول اور نا قابل بیان بے شرمی والی باتیں بھی بتانے پر مجبور پاتا ہے اپنے آپ کو۔ کہتا ہے کہ نہ بتاؤں تو دل گھبراتا ہے۔
13. اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔
14. کرکٹ کھیلنے نہیں جاتا تو کوشش کرتا ہے کہ موبائل پر گیم کھیلے۔ ذہن تھوڑا سا بھی فارغ ہو تو منفی خیالات اور غلط سوچیں تنگ کرتی ہیں۔
15. اس کے بقول ۔۔۔۔ وہ اپنے خیالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے یعنی خیالی کام اُس کو واقعی اصلی حالت میں نظر آتے ہیں۔
16. ناپاکی کا احساس۔ دن میں کئی کئی بار کپڑے بدلتا رہتا ہے کہ ناپاک اور گندے ہو گئے ہیں۔
کیس کا تجزیہ، ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج (ہومیوپیتھی سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)۔
والدین کو بتایا گیا کہ خوب سوچ سمجھ کر اُن تمام مسائل کی لسٹ تیار کریں جن کو آپ حل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو تفصیل موصول ہوئی، وہ اوپر درج ہے۔ اس کے علاوہ والدہ نے ہر روز کی رپورٹ بلاناغہ مجھے بھیجی۔ ہفتے میں دو بار ہم کیس پر ڈسکشن کرتے۔ بیٹے کو چوں کہ بہت سخت دوائیاں دی جا رہی تھیں، چڑچڑاپن اور غصہ بہت تھا اور نیند کم۔ ان تمام عوامل کو مدِ نظر رکھ کر ہومیوپیتھی دوا نکس وامیکا (Nux Vomica 30) شروع کروائی گئی۔
چند مسائل میں واضح بہتری آئی مثلاً نیند بہت بہتر ہو گئی، غصہ وغیرہ بالکل ٹھیک ہو گیا لیکن ناپاکی، ٹچ اور فضول باتوں کے معاملات بہت زیادہ بڑھ گئے۔ بچے کی ذاتی ہسٹری، فیملی ہسٹری اور میازم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بسیلینم (Bacillinum 200) دی گئی۔ ایک ہفتہ کے اندر ہی کرکٹ کا جنون، مختلف چیزوں کی طلب، بے جا مطالبات، بے پناہ ضد، آئس کریم اور میٹھے جوس وغیرہ پینے کی دلچسپی نارمل ہو گئی۔ ناپاکی اور ٹچ کا معاملہ مزید بڑھ گیا۔ والد صاحب نے بتایا کہ پچھلے سال گرمیوں کی چھٹیوں کے شروع میں چند دن بچے سکول جاتے رہے تھے۔ بیٹے نے بتایا کہ وہاں کچھ شرارتیں بھی ہوئی تھیں۔ بچے کی ہسٹری میں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اِس کی تکالیف میں سائیڈ بدلنے کا رجحان تھا۔ آج دائیں طرف درد ہے تو دو دن بعد بائیں طرف۔ ٹچ کی حساسیت اپنے عروج پر تھی اور نا پاکی کا احساس بھی۔ لیک کنینم (Lac Caninum 1M) دی گئی۔ دوسرے دن مسائل مزید بڑھ گئے۔ والدین کو بتایا گیا کہ یہ سب عارضی ہے۔ والدہ تقریباً ہمت ہار گئیں اور اس صورتِ حال کو دیکھ کر اُن کی اپنی صحت بھی کافی خراب ہو گئی۔
پروردگار نے کرم کیا کہ آہستہ آہستہ معاملات بہتری کی جانب رواں دواں ہوتے گئے۔ اچانک ایک دن بچے کے دل و دماغ میں عجیب کنفوژن ہونا شروع ہو گئی۔ وہ ہر بات میں کنفوز رہنے لگا؛ ایسے جیسے اُس کا دماغ کام چھوڑ گیا ہو۔ کرکٹ کھیلنے جانے کا کہتا مگر تھوڑی دیر بعد کہتا کہ نہیں جاتا، پھر کہتا اچھا چلا جاتا ہوں اور پھر راستے سے ہی واپس آ جاتا۔ تھوڑی دیر بعد کہتا کہ چلا ہی جاتا تو اچھا تھا۔ ماموں کے گھر جانے کا پروگرام بنانے کا سوچتا رہتا مگر پھر اعلان کرتا کہ نہیں جاؤں گا۔ ایک سوٹ پہنتے پہنتے کہتا کہ نہیں یہ نہیں پہنتا وہ پہنتا ہوں مگر دوبارہ پہلے والا پہنتا۔
زبان پر چھالے نکل آئے تو پریشانی لاحق ہو گئی کہ یہ میری اُن باتوں کی اللہ نے سزا دی ہے کہ جو میں غلط بولتا اور سوچتا ہوں۔ آخرت، گناہ، ثواب اور عذاب کی فکر میں مبتلا ہو گیا۔ ماں سے کہنے لگا کہ میرا ارادہ ہے کہ آپ کو قتل کر دوں اور کچھ دیر بعد رونا دھونا شروع کہ پھر باتیں کس سے کروں گا۔ کوئی بات کرنے لگتا تو اچانک بھول جاتا۔ کہتا کہ میرے اندر شیطان ہے جو مجھ سے غلط کام کروانا چاہتا ہے یا شاید جن بھوت۔ اپنی زبان کو دانتوں سے جکڑے رکھتا کہ کچھ غلط نکل نہ جائے اور اُس کی سزا نہ ملے۔ اُس کو یہ وہم ہو گیا کہ شاید اُس کے اندر کوئی طاقت ہے جو اُس سے غلط کام کروانا چاہتی ہے۔ پھر یقین دلاتا کہ میں اُس کی باتوں پر عمل نہیں کروں گا لیکن کرنے لگوں تو آپ مجھے روک لینا۔ ہر معاملے میں ڈبل مائنڈڈ (Double Minded)، ہر بات میں کنفیوز (Confuse) اور یہ مستقل وہم کہ شیطان مجھ سے ماں باپ کو قتل کروا دے گا۔ ماں سے بار بار التجا کہ مجھے روک لینا۔ پورا طریقہ بتاتا کہ کیسے قتل کروں گا اور آپ مجھے اس اس طرح سے روکنا۔
گذشتہ ہفتہ سے اناکارڈیم (Anacardium 200) دی جا رہی ہے یا حسب ضرورت پلاسبو۔ ان تمام مسائل میں واضح بہتری آ چکی ہے۔
السلام علیکم
آج سے ایک ماہ پہلے میں نے ڈاکٹر حسین قیصرانی کو کال کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ میں رو رہی تھی۔۔ میرا بیٹا جن مسائل کا شکار تھا ان کا حل کہیں نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔ میں نے کئی اچھے ڈاکٹرز سے اس کا علاج کروایا۔۔ لیکن
۔۔۔۔۔۔ دکھ کہاں ٹھہرتا ہے
۔۔۔۔۔۔ حاشیہ لگانے سے!
شائد میں حاشیہ لگانا چاہ رہی تھی۔۔۔۔ وہ جن تکالیف سے گزر رہا تھا۔۔۔ سب ڈاکٹر اور میں خود بھی، ان مسائل کو حل کیے بغیر ختم کرنا چاہ رہے تھے۔ اللہ عزوجل نے میری مدد کی۔ اور میں نے ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کیا۔ بہت صبح کا وقت تھا۔۔۔ غیر متوقع طور پر انھوں نے نہ صرف میری کال اٹینڈ کی بلکہ پوری توجہ سے میری بات سنی۔۔ اور شدید مایوسی کے دور میں مجھے امید کی کرن نظر آئی۔۔۔۔۔۔
ایک ماہ کے ہومیوپیتھک علاج سے اب حالات بالکل مختلف ہیں۔۔۔ میرے بیٹے کو جو مسائل تھےان میں سر فہرست درج ذیل ہیں اور حالیہ صورتحال انتہائی خوشگوار ہے۔
1. کسی کو ٹچ کرنے یا کوئی اسے ٹچ کرے اس میں شدید حساسیت۔۔
ایک سال سے وہ الگ سوتا تھا۔۔۔ کوئی بھی اسے ٹچ کرے تو اس کا دل گھبراتا تھا۔۔ لیکن اب اس میں بہت بہتری ہے وہ میرے ساتھ سو جاتا ہے۔۔۔ مجھے گلے لگا لیتا ہے۔۔۔۔ وہ تیزی سے بہتر ہو رہا ہے۔
2۔ دوسرا اہم مسئلہ ناپاکی کا ڈر، خوف اور شدید وہم تھا ۔
اس کو شدید وہم ہوتے تھے کہ وہ ناپاک ہے وہ دن میں کئی بار کپڑے بدلتا تھا۔۔۔۔ بار بار ہاتھ دھوتا تھا۔ الحمدللہ۔۔۔ یہ مسئلہ تقریباً حل ہو گیا ہے ۔۔ اب اس کو وہم نہیں ہوتے نہ ہی وہ بار بار کپڑے بدلتا ہے۔۔۔۔
3۔ نیند کی کمی اس کا اہم مسئلہ تھا۔۔۔ وہ کبھی بھی پرسکون گہری نیند نہیں سویا تھا۔۔۔ علاج کے پہلے دن سے ہی اب الحمد للہ وہ خود سو جاتا ہے۔۔ اور پرسکون گہری نیند لیتا ہے۔
4. بے حد ضدی اور نت نئی فرمائشیں
وہ ہر وقت ضد کرتا تھا ہر پل نئی فرمائش کرتا اور بضد ہوتا کہ وہ پوری کی جائے۔۔ یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے۔
5. اسے ہر وقت چکن یا انڈا کھانےکی طلب ہوتی تھی۔۔۔ اب ایسا نہیں ہوتا
6۔ بہنوں سے ہر وقت لڑائی جھگڑا کرتا تھا ۔۔۔۔ ما شاء اللہ اب ان کے ساتھ باتیں کرتا ہے۔۔۔ کھیلتا ہے ۔
7. اسے کرکٹ کھیلنے کا جنون تھا۔۔۔۔ بھوک پیاس موسم کی شدت اور ہماری منت سماجت یا سختی ۔۔۔۔ کوئی بھی چیز اسے کھیلنے سے نہیں روک پاتی تھی۔ تقریباً ایک سال سے یہ کیفیت تھی ۔۔۔ کرکٹ سے واپسی پر بہت زیادہ پریشان اور دکھی بھی ہوتا تھا۔ مگر اب وہ صرف چھٹی والے دن کھیلتا ہے جنون والی کیفیت نہیں ہے اور واپسی پر پریشانی اور دکھ کی کیفیت نہیں ہوتی۔۔
8. اسے گھر میں رہنا بالکل بھی نہیں پسند تھا۔۔ مگر اب وہ گھر میں رہتا ہے اور ہمارے ساتھ وقت گزارتا ہے۔
الحمد للہ ۔۔۔ یہ سب بہت ہی مثبت تبدیلیاں ہیں۔ علاج کے دوران میرا ڈاکٹر قیصرانی صاحب سے مسلسل رابطہ رہا۔ انہوں نے مجھے بھی حوصلہ دیا۔۔۔
ابھی اس کا علاج جاری ہے اور اس کی شخصیت کے ایک کے بعد ایک نئے پہلو سامنے آ رہے ہیں جن کا مجھے ادراک نہیں تھا۔ ڈاکٹر صاحب تہہ در تہہ اس کی نفسیات کو جانچ رہے ہیں۔۔۔ اور ہر مسئلے کے لیے ہمہ وقت میسر ہوتے ہیں۔۔
مجھے یقین ہے کہ جلد ہی میرا بیٹا ایک بھرپور زندگی کی جانب لوٹ آئے گا، ان شاء اللہ ۔۔۔

Related Posts







ناپاکی، ٹچ کرنے، بار بار کپڑے بدلنے اور ہاتھ دھونے کا وہم، عجیب ڈر اور خوف – علاج اور ہومیوپیتھک دوائیں – حسین قیصرانی

No comments: